فهرس الكتاب

الصفحة 55 من 102

چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:

''إِنَّا قَدْ تَرَکْنَا قَوْمَنَا ، وَلَا قَوْم بَیْنَھُمْ مِنَ الْعَدَاوَۃِ والشَّرِّ مَا بَیْنَھُمْ فَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یَجْمَعَھُمْ بِکَ ، فَسَنَقْدِمُ عَلَیْھِمْ ، فَنَدْعُوْھُمْ إِلیٰ أَمْرِکَ ، نَعْرِضُ عَلَیْھِمْ الَّذِيْ أَجَبْنَاکَ إلیہ مِنْ ھٰذَا الدِّیْنِ۔ فَإِنْ یَجْمَعْھُمْ عَلَیْکَ فَلَا رَجُلٌ أَعَزَّمِنْکَ۔'' [1]

[ہم ایک ایسی قوم سے آئے ہیں ، کہ کسی بھی قوم میں باہمی دشمنی اورشرارت ان سے زیادہ نہیں ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے انہیں متحد کردیں ۔ ہم ان کے پاس جاتے ہیں اور انہیں آپ کی دعوت کی طرف بلاتے ہیں ۔ آپ کے بیان کردہ جس دین کو ہم نے قبول کیا ہے، یہی دین ہم انہیں پیش کریں گے۔ اگر وہ اس دین کی بنیاد پر اکٹھے ہو گئے، تو آپ سے زیادہ کوئی شخص معزز نہ ہو گا۔]

پھر جب وہ لوگ اپنی قوم کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے ان کے سامنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور انہیں دعوتِ اسلام دی، یہاں تک کہ ان میں اسلام پھیل گیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت