فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 102

ان میں سے صرف دو ذیل میں توفیق الٰہی سے پیش کی جارہی ہیں:

۱۔ اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا: {قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَ الْبَغْيَ بَغَیْرِ الْحَقَّ وَ أَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّأَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔} [1]

[ترجمہ: کہہ دیجیے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسے شریک بناؤ ، جس کی انہوں نے کوئی دلیل نہیں اُتاری اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ پر وہ کہو، جو تم نہیں جانتے۔]

حافظ ابن جوزی تحریر کرتے ہیں: ارشادِ ربانی: {وَّأَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ} دین کی کوئی بات بھی بغیر یقین کے کہنے کی حرمت کے بارے میں ہے۔ [2]

شیخ قاسمی آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: تم پر یہ بات حرام کی گئی ہے ، کہ تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کے بغیر اپنی طرف سے بات کہو اور حلت وحرمت میں افترا باندھو یا ارتکاب شرک کے لیے اپنی طرف سے باتیں بناؤ۔ [3]

شیخ سعدی نے تحریر کیا ہے: کہ تم اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات ، افعال اور شریعت میں اپنی طرف سے بات کہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں کو حرام کیا ہے اور بندوں کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ ان میں مفاسد عامہ اور خاصہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں گستاخی ہے، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تبدیلی لانا ہے۔ [4]

[2] ملاحظہ ہو: زاد المسیر ۳؍۱۹۲۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۷؍۷۰۔

[4] تفسیر السعدي ص ۲۹۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت