پڑوسی کئی طرح کے ہو تے ہیں: (۱) وہ جو مسلمان بھی ہے ، رشتہ دار بھی ہے اور پڑوس میں رہتا ہے۔
(۲) وہ جو مسلمان ہے اور پڑوسی ہے (۳) جو نہ مسلمان ہے نہ رشتہ دار بلکہ صرف پڑوسی ہے ۔
(۴) سفر وغیرہ میں ۔ ٹرین ، بس ، جہاز وغیرہ میں جس کا ساتھ ہوجائے ،یعنی عار ضی پڑوسی ۔اسلام نے ان تمام کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔ پڑوسیوں کے چند اہم حقوق یہ ہیں:
(۱) ان کی خبر گیری کر نا (۲) ان کے یہاں حسب گنجائش ہدیہ تحفہ بھیجنا ۔
(۳) ان کو تکلیف پہنچانے سے اجتناب کر نا (۴) ان کی طرف سے تکلیف پہنچنے پر صبر کرنا (۵) حسب موقع تہنئت ، عیادت ، تعزیت اور دوسرے اعمال بجالانا ۔ اس سلسلے کی چند احادیث ملا حظہ ہوں:
(۱) ''وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا (۳؍بارفرمایا) جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں ،، [بخاری]
(۲) ''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے کوئی بند ہ مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پڑوسی کے لیے وہی نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کر تا ہے،، [مسلم]
(۳) ''جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی (شوربہ) بڑھا دو اور پڑوسیوں کی خبر گیری کرو ،، [مسلم]
(۴) ''کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی لگانے سے منع نہ کرے ، ، [بخاری و مسلم]