الصفحة 46 من 65

چھینک اور جماہی کے آداب

(۱) چھینک آنے پر الحمدُ للہ کہیں ، سننے والے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہیں ، پھر ان کے جواب میں چھینکنے والا یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ و یُصْلِحُ بَالَکم ۔کہے [بخاری]

(۲) جب چھینک آئے تو رومال و غیرہ منھ پر رکھ لیں ،یا چہر ہ دوسری طرف پھیر لیں ،اگر دستر خوان پر بیٹھے ہو ں تو کھا نے کی طرف سے منھ ہٹالیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تھے تو اپنا ہاتھ یا کپڑا اپنے منھ پر رکھ لیتے اور آواز پست کر تے [ترمذی ،حسن صحیح]

(۳) اگر چھینکنے والا الحمد للہ نہ کہے تو اس سے یر حمک اللہ نہیں کہا جائے گا ۔ [مسلم]

بہتر ہے کہ ایسے شخص کو الحمد للہ پڑھنے کی تاکید کی جائے ۔

(۴) سردی زکام کی وجہ سے بار بار چھینک آئے تو ہر مر تبہ الحمد للہ کے جواب میں یر حمک اللہ کہنا ضروری نہیں ۔ [مسلم]

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ دو مر تبہ تک جواب دیاجا سکتا ہے ۔ [ترمذی ابو داود ۔ بسند صحیح]

(۵) جماہی آئے تو حتی الامکان اسے روکنے کی کوشش کر یں ۔ [مسلم]

(۶) جماہی آنے پر ہاتھ منھ پر رکھ لیں ۔ [مسلم]

(۷) جماہی آئے تو زور سے آواز نہ نکا لیں نہ ہا ہ ہا ہ کریں ۔ [ترمذی ۔صحیح ]

(۸) اللہ تعا لیٰ چھینک کو پسند کر تا اور جماہی کو نا پسند کر تا ہے ۔ [بخاری]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت