الصفحة 47 من 65

لباس کے آداب

لباس اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ،اس کے ذریعہ انسان اپنا ستر ڈھانپتا ہے ، سردی گرمی سے خود کو بچاتا ہے اور ساتھ

ہی اس سے زینت کاکام بھی لیتا ہے ۔لباس کے تعلق سے اسلامی احکام و آداب کا خلا صہ اس طر ح ہے:

(۱) مرد و عورت ہر ایک کا لباس ڈھیلا اور سا تر ہو ۔تنگ لباس یا بہت باریک لباس جس سے جسم کے اعضاء ظاہر اور نمایاں ہو ں قطعا درست نہیں۔

(۲) مردوں کا ازار [لنگی ،پاجامہ و غیرہ ] ٹخنو ں سے نیچے نہ ہو ۔ جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں جلے گا ۔ [بخاری]

لہذا ازار آدھی پنڈلی تک مستحب ، ٹخنے کے اوپر تک جائز اور ٹخنے کے نیچے حرام ہے ۔ [ابو داود، ابن ماجہ ۔صحیح ]

(۳) مردوں کو سفید کپڑا پہننے کی تر غیب دی گئی ہے اور ُمردوں کوسفید کپڑے میں کفن دینے کا حکم ہے ۔ [احمد ۔صحیح ]

(۴) دوسر ے رنگ کا کپڑا پہننا جائز ہے بشرطے کہ عورتوں اور غیر مسلموں سے اس میں مشابہت نہ ہو ۔

(۵) مردوں کے لیے ریشم کا لباس اور سونے کا زیور پہننا منع ہے ۔

(۶) مردوں اور عورتوں سب کے لیے درج ذیل نوعیت کے لباس حرام ہیں:

(۱) عورتوں کے لیے مردوں والا لباس ، اور مردوں کے لیے عورتوں والا لباس (۲) شہرت اور دکھا وے والا لباس ۔

(۳) فضول خر چی والا لباس (۴) غرور و تکبر والا لباس

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت