فهرس الكتاب
مالکیہ کےنزدیک ایسےآدمی کےحق میں مشروع نہیں ہے جس کےپاس اس سال کاپوراخرچہ نہ ہوکیونکہ ایساآدمی فقیرکےحکم میں ہے (نیز دیکھیے:بلغة السالك(1/286) الذخيرة (4/142 ) ) اورجس کے پاس قربانی کی قیمت نہ ہو وہ قربانی کرنےکےلئےقرض یاادھارنہیں لےگا (نیز دیکھیے:شرح الخرشي(3/33 ) )
شافعیہ کےنزدیک ایسا آدمی جس کےپاس ایک دن اورایک رات کا خرچہ اورعیدکےدن اورایاّم تشریق میں پہننےکےلئے کپڑےہوں اس کے لئے قربانی مشروع ہے (نیز دیکھیے:مغني المحتاج(6/123) الاقناع (2/278 ) )
حنابلہ کےنزدیک جوآدمی قربانی کاجانورخریدنےکی وسعت رکھتا ہو اس کےحق میں قربانی مشروع ہے، اگروہ قرض کی ادائیگی کی طاقت رکھتاہے تو قرض لیکربھی قربانی کرسکتاہے (نیز دیکھیے:كشاف القناع(3/18 ) ) )شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"إن كان له وفاءفاستدن مايضحي به فحسن,ولايجب عليه أن يفعل ذلك" (نیز دیکھیے:مجموع فتاوی شیخ الاسلام(26/305 ) )"اگروہ قرض کی ادائیگی کی طاقت رکھتا ہےاورقربانی بھرکاقرض لیکرقربانی کرتاہےتویہ بہترہے، لیکن ایسا کرنااس کےلئے ضروری نہیں ہے"سماحۃ الشیخ ابن بازرحمہ اللہ کارجحان بھی اسی کی طرف ہے -