فهرس الكتاب

الصفحة 19 من 67

"جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، إلاّ یہ کہ آدمی دشمن پرٹوٹ پڑنے کی نیّت سےنفس ومال کےساتھ نکلتاہےاور ان میں سے کچھ بھی لیکر واپس نہیں آتا"۔

3 -عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےمروی ہےکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"ما من أيام أعظم عند اللّٰه سبحانه ولاأحب إليه العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد" (أحمد(2/75) شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:شرحہ علی المسند رقم (5446 ) )"عشرہ ذی الحجہ کےدنوں میں کئےجانے والےعمل سے زیادہ اللہ کےنزدیک کوئی دوسراعمل پسندیدہ نہیں، اس لئے ان دِنوں میں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار اورتکبیروتحمید کیاکرو"

4۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کےاندرفرماتےہیں:"عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی حیثیت کاسبب غالبایہ ہےکہ دیگرایّام کےمقابلےمیں بڑی بڑی عبادتیں مثلا:نماز، روزہ، زکاۃ اورحج ان ایام میں اکٹھی ہوجاتی ہیں" (فتح الباری(3/136 ) )

عشرہ ذی الحجہ کےمشروع اعمال

1 - (نماز )

ذو الحجہ اوردیگرایام میں بھی فرائض کی محافظت اورزیادہ سےزیادہ نوافل کااہتمام مستحب ہے، ثوبان رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ:میں نےنبی أكرم صلی اللہ علیہ وسلم سےایسےعمل کےبارےمیں پوچھاجواللہ تعالی کے نزدیک سب سےزیادہ پسندیدہ اوردخول جنّت کاسبب ہو، توآپ نےفرمایا:"عليك بكثرة السجود للّٰه! فإنك لاتسجد للّٰه سجدة إلارفعك اللّٰه درجةوحط عنك خطيئة" (مسلم:الصلاة/43 رقم(488 ) )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت