"جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، إلاّ یہ کہ آدمی دشمن پرٹوٹ پڑنے کی نیّت سےنفس ومال کےساتھ نکلتاہےاور ان میں سے کچھ بھی لیکر واپس نہیں آتا"۔
3 -عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےمروی ہےکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"ما من أيام أعظم عند اللّٰه سبحانه ولاأحب إليه العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد" (أحمد(2/75) شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:شرحہ علی المسند رقم (5446 ) )"عشرہ ذی الحجہ کےدنوں میں کئےجانے والےعمل سے زیادہ اللہ کےنزدیک کوئی دوسراعمل پسندیدہ نہیں، اس لئے ان دِنوں میں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار اورتکبیروتحمید کیاکرو"
4۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کےاندرفرماتےہیں:"عشرہ ذی الحجہ کی امتیازی حیثیت کاسبب غالبایہ ہےکہ دیگرایّام کےمقابلےمیں بڑی بڑی عبادتیں مثلا:نماز، روزہ، زکاۃ اورحج ان ایام میں اکٹھی ہوجاتی ہیں" (فتح الباری(3/136 ) )
عشرہ ذی الحجہ کےمشروع اعمال
1 - (نماز )
ذو الحجہ اوردیگرایام میں بھی فرائض کی محافظت اورزیادہ سےزیادہ نوافل کااہتمام مستحب ہے، ثوبان رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ:میں نےنبی أكرم صلی اللہ علیہ وسلم سےایسےعمل کےبارےمیں پوچھاجواللہ تعالی کے نزدیک سب سےزیادہ پسندیدہ اوردخول جنّت کاسبب ہو، توآپ نےفرمایا:"عليك بكثرة السجود للّٰه! فإنك لاتسجد للّٰه سجدة إلارفعك اللّٰه درجةوحط عنك خطيئة" (مسلم:الصلاة/43 رقم(488 ) )