فهرس الكتاب

الصفحة 39 من 67

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:"من ضحى قبل الصلاة فإنماذبح لنفسه ومن ذبح بعدالصلاة فقدتمَّ نُسكه وأصاب سنة المسلمين" (مسلم:الاضاحی /1 رقم(4/1961 ) )"جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اس نے اپنے لئے ذبح کیا اورجس نےنماز کے بعدذبح کیااس کی قربانی پوری ہوگئی اوراس نےمسلمانوں کےطریقہ کےمطابق کیا"اورایک روایت میں ہے:"من ذبح قبل الصلاة فليذبح شاةً مكانها"

(بخاری:الاضاحی /12(5562) مسلم، الاضاحی /1 رقم (2/1961) "جس نےنماز سےپہلےجانورذبح کردیااسےاس کی جگہ دوسری بکری قربانی کرنی چاہئے"

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ:رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا:"ولايذبحن أحد حتى يصلي" (مسلم، الاضاحی /1 رقم(5/1961) "کوئی شخص قربانی نہ کرےیہاں تک کہ نمازپڑھ لے"۔

رات میں قربانی کرنےکاحکم

ایّام تشریق کی راتوں مییں قربانی کرنےکےسلسلے میں فقہاء کےدرمیان اختلاف پایاجاتاہے:جمہورعلماءکےنزدیک رات میں قربانی مکروہ ہے، مالکیہ کےنزدیک رات میں قربانی کرناکافی نہیں ہے اوربعض حنابلہ کے نزدیک جا‌ئزہے (تفصیل کے لیے دیکھیے:بدائع الصنائع(5/57) الشرح الصغیر (1/308) روضۃ الطالبین (3/200) الفروع (3/546) اور الشرح الممتع علی زاد المستقنع لابن عثیمین (7/502۔503 ) ) ۔

راجح قول کےمطابق ان راتوں میں قربانی کرناجائز ہے،دائمی کمیٹی برائے فتوی سعودی عرب نے ایک سوال کےجواب میں لکھاہےکہ:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت