"عیدالأضحی اورتشریق کےدنوں میں عصرکےبعد قربانی کرنابلاکسی اختلاف کےجائزہے، اسی طرح راجح قول کے مطابق ایاّم تشریق کی راتوں میں بھی قربانی کرناجائزہے" (فتوی نمبر(9525 ) )
قربانی کےایام یوم النحر (10 ذی الحجہ) کےعلاوہ ایام تشریق پرمحیط ہیں یعنی کل چاردن (10 سے13 ذی الحجہ) تک قربانی کرسکتے ہیں۔
ذبح کےشرائط
1 -ذبح کرنےوالا عاقل ممیّزہو، لہذاپاگل، نشےکی حالت میں اورایسابچہ جوحالت تمییزکونہ پہونچا ہوکا ذبح کیاہوا جائز نہیں ہے۔
2 -ذبج کرنےوالامسلمان (مرد، عورت، عادل، فاسق،طاہر، غیرطاہر سب کو شامل ہے) یا کتابی (یہودونصاری میں سے) ہو۔
3 -ذبح کی نیّت ہو۔
4 -ذبح غیراللہ کےلیےنہ ہو، کیونکہ غیراللہ کےنام پرذبح کیاگیاجانور قطعًاحرام ہے۔
5 -ذبح کےوقت غیراللہ کانام نہ لیاگیاہو، جیسے:باسم النبی یا باسم جبریل وغیرہ۔
6 -ذبح اللہ کےنام سےکیاگیاہو یعنی بسم اللہ کہ کرکیاگیاہو۔
7 -کسی دھاردارآلہ سےذبح کیاگیاہو (ہڈی، ناخن اوردانت سےذبح کرناجائزنہیں ہے،اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلمنےارشادفرمایا:"ماأنهرالدم وذكر اسم اللّٰه فكل ليس الظفروالسن،أماالظفرفمدى الحبشةوأماالسن فعظم"(بخاری:ذبائح /18(5503) مسلم:اضاحی/4 (1968 ) )