فهرس الكتاب
[1] اور طالب علم کے پاس جب اس بات کی اہلیت و استطاعت ہو کہ وہ آئمہ کرام کے دلائل کو جان سکے (کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہیں) تو وہ ان پر عمل کرے۔ اور کسی بھی مسئلہ میں وہ ایک امام کے مسلک سے نکل کر دوسرے امام کے مسلک میں منتقل ہو جائے۔ مگر یہ ہے کہ دوسرے امام کا مسلک دلیل کے طور پر زیادہ مضبوط ہو اور تفقہ فی الدین کے طور پر کسی دوسرے مسئلہ میں زیادہ راجح ہو۔ بغیر دلیل کو جانے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی عالم یا امام کے قول کولے لے۔ اس لیے کہ اس طرح تو وہ مقلد بن کر رہ جائے گا۔ اور ہر مسلمان پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اختلاف میں جس طرح نظر و فکر کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اسی قدر وہ اپنی صلاحیت کو صرف کرے حتی کہ اس کے ہاں کوئی ایک بات راجح ہو جائے۔ اور اگر اُس کے لیے کسی بات اور کسی
آئمہ کرام رحمہم اللہ جمیعًا کے اقوال اس باب میں بہت زیادہ ہیں ۔ اس لیے کہ وہ اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان کا معنی خوب سمجھتے تھے: {اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ} (الاعراف:۳) '' (لوگو) جو تمہارے مالک کی طرف سے تم پر اترا (یعنی قرآن و حدیث) اُس کی پیروی کرو اور اس کے (یعنی اللہ کے یا قرآن و حدیث کے ) سوا دوسرے چہیتے اولیاء (اماموں ) کی پیروی مت کرو۔ تم بہت کم نصیحت لیتے ہو ۔ ''