فهرس الكتاب
مسئلہ کو راجح قرار دینا ممکن نہ ہو تو اُس پر ایک عام مسلمان کا اطلاق ہو گا اور اس صورت میں وہ اہل علم سے دریافت کرے۔
اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک عام مسلمان کہ جو کسی دلیل میں کسی طرح کی فکر و نظر نہ رکھتا ہوں اس کا مطلوب مسئلہ میں کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ بلکہ اُس کا اس مسئلہ میں مذہب و مسلک اور موقف اسے فتوی دینے والے مفتی صاحب کا مذہب و مسلک شمار ہوگا۔ لہٰذا اس پر واجب ہے کہ وہ قرآن و سنت کا خوب علم رکھنے والوں سے دریافت کرے۔ جیساکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں:
{وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 43} بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (النحل:۴۳۔۴۴)
'' (اے ہمارے محبوب نبی!) ہم نے تجھ سے پہلے (بھی) مردوں کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ ان کو وحی بھیجتے رہے کہ (لوگو) اگر تم نہیں جانتے تو کتاب والوں (یہود و نصاریٰ) کے عالموں سے پوچھ لو (اور ان پیغمبروں کو) معجزے اور کتابیں اور دیکر بھیجا اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تجھ پر قرآن اتارا اس لیے کہ تو لوگوں کو سمجھا دے (کھول کر بتا دے) جو ان کی طرف اترا تاکہ وہ خود بھی غور کریں۔'' [1]
اس آیت میں '' الذکر'' یعنی قران کے نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول و عمل سے اس کی توضیح و تشریح فرمائیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قران کے مجملات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلا نماز، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَ لَا اِنّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ و َمِثْلَہٗ مَعَہٗ…کہ خبر دار ! مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز یعنی سنت دی گئی ہے۔ پس قران سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے سنت سے بے نیازی اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔