۱۹۰۱ء میں فرانس میں اس بات کی تحقیق کے لیے کانفرنس منعقد ہوئی، کہ زنا کو روکنے کے لیے بہترین طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ اسی کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا:
''صرف صوبے سین کی پناہ گاہوں میں جمع کیے گئے حرامی بچوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔ بعض اہل کار اپنی زیر نگرانی لڑکیوں کے ساتھ بھی زنا کرتے ہیں اور یہ حرامی بچے آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بدکاری کرتے تھے۔'' [1]
ج: انگلستان:
''انگلستان میں ہر سال قریبًا اسّی ہزار عورتیں حرامی بچوں کو جنم دیتی ہیں، جو کہ پیدا ہونے والے تمام بچوں کی مجموعی تعداد کا قریبًا ایک تہائی حصہ ہے۔'' [2]
[دائرہ شادی سے باہر شرحِ پیدائش کا ۴۰ % سے تجاوز]
اسی رپورٹ میں ہے:
''قومی اعداد و شماریات کے دفتر کے مطابق دائرہ شادی سے باہر پیدا ہونے والے بچوں کا مملکت متحدہ (برطانیہ) میں تناسب ۱۹۸۰ء میں ۱۲%
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
اقتباس کے الفاظ قریبًا حسبِ ذیل ہیں:
[3] جب ناجائز بچے ان کے ہاں [طبعی بچے] ہیں، تو کیا شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے ان کے نزدیک [غیر طبعی] ہوں گے؟
[4] منقول ازکتاب [حقوق الانسان في الإسلام] ڈاکٹر عبد الواحد وافی ص ۱۵۹۔