فهرس الكتاب

الصفحة 107 من 193

کی نصرت و حفاظت کرنے کی شعب عقبہ کے مقام پر بیعت لی۔

د:عرفات میں دعوتِ حق کی خاطر جدوجہد:

امام احمد اور امام حاکم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:

''َکاَن النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ، [1] فَیَقُوْلُ:

''ہَلْ مِنْ رَجُلٍ یَحْمِلُنِيْ إِلٰی قَوْمِہِ، فَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ مَنَعُوْنِيْ أَنْ أُبَلِّغَ کَلَامَ رَبِّيْ؟'' [2]

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو موسم حج میں عرفات کے مقام پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرماتے:

''کوئی شخص ایسا ہے، جو مجھے اپنی قوم کی طرف لے جائے، کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک رکھا ہے؟''

''فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ [3] ، فَقَالَ:''مِمَّنْ أَنْتَ؟''

''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمدان (قبیلے) کا ایک شخص آیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا:''تم کن (لوگوں) سے ہو؟''

[2] حدیث کا یہ حصہ امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:سنن أبي داود، کتاب السنۃ، باب في القرآن، رقم الحدیث ۴۷۱۹، ۱۳/۴۳؛ وجامع الترمذي، أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء کیف کانت قرائۃ النبي صلي الله عليه وسلم ؟ رقم الحدیث ۳۰۹۳، ۸/۱۹۵، امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [بخاری کی شرط] پر قرار دیا ہے۔) (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۸/۱۹۶؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۱۹۴۷، ۴/۵۹۱) ۔

[3] (ہَمْدَان) :ایک یمنی قبیلہ۔ (ملاحظہ ہوا:بلوغ الأماني ۲/۲۶۷) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت