فهرس الكتاب
کی نصرت و حفاظت کرنے کی شعب عقبہ کے مقام پر بیعت لی۔
امام احمد اور امام حاکم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا:
''َکاَن النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ، [1] فَیَقُوْلُ:
''ہَلْ مِنْ رَجُلٍ یَحْمِلُنِيْ إِلٰی قَوْمِہِ، فَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ مَنَعُوْنِيْ أَنْ أُبَلِّغَ کَلَامَ رَبِّيْ؟'' [2]
''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو موسم حج میں عرفات کے مقام پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرماتے:
''کوئی شخص ایسا ہے، جو مجھے اپنی قوم کی طرف لے جائے، کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک رکھا ہے؟''
''فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ [3] ، فَقَالَ:''مِمَّنْ أَنْتَ؟''
''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمدان (قبیلے) کا ایک شخص آیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا:''تم کن (لوگوں) سے ہو؟''
[2] حدیث کا یہ حصہ امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:سنن أبي داود، کتاب السنۃ، باب في القرآن، رقم الحدیث ۴۷۱۹، ۱۳/۴۳؛ وجامع الترمذي، أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء کیف کانت قرائۃ النبي صلي الله عليه وسلم ؟ رقم الحدیث ۳۰۹۳، ۸/۱۹۵، امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [بخاری کی شرط] پر قرار دیا ہے۔) (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۸/۱۹۶؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۱۹۴۷، ۴/۵۹۱) ۔
[3] (ہَمْدَان) :ایک یمنی قبیلہ۔ (ملاحظہ ہوا:بلوغ الأماني ۲/۲۶۷) ۔