فهرس الكتاب

الصفحة 82 من 193

لوگوں کی مجالس میں دعوت دین

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی اجتماع گاہوں میں بنفس نفیس تشریف لے جاتے اور وہاں جاکر پیغامِ الٰہی پہنچاتے۔ ذیل میں اس بارے میں دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

ا:قریش مکہ کی مجلس میں دعوتِ حق:

امام ابویعلی نے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''جَائَتْ قُرَیْشٌ إِلٰی أَبِيْ طَالِبٍ، فَقَالُوْا:''إِنَّ ابْنَ أَخِیْکَ یُؤْذِیْنَا فِيْ نَادِیْنَا، وَفِيْ مَسْجِدِنَا، فَانْہَہُ عَنْ أَذَانًا۔''

''قریش نے ابوطالب کے پاس آکر کہا:''بے شک آپ کا بھتیجا ہماری مجلس اور ہماری مسجد میں (آکر) ہمیں اذیت دیتا ہے۔ اسے ہمیں اذیت دینے سے منع کردیجیے۔''

انہوں (یعنی ابوطالب) نے کہا:

''یَا عَقِیْلُ! اِئْتِنِيْ بِمُحَمَّدٍ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔''

''اے عقیل! میرے پاس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آؤ۔''

''فَذَہَبْتُ، فَأَتَیْتُہُ بِہِ۔''

''سو میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پاس لے کر آگیا۔''

انہوں نے کہا:

''إِنَّ بَنِيْ عَمِّکَ یَزْعُمُوْنَ أَنَّکَ تُؤْذِیْہِمْ فِيْ نَادِیْہِمْ، وَفِيْ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت