فهرس الكتاب
دعوت میں افہام و تفہیم کے مواقع نسبتًا زیادہ ہوتے ہیں۔
اس واقعہ میں دیگر فائدہ:
قرآن کریم کے ساتھ دعوتِ اسلام دینا۔
پروفیسر آرنلڈ لکھتے ہیں:
''کئی تاتاری شہزادے ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے اپنی مسلمان بیویوں کی ترغیب سے اسلام قبول کیا۔ غالبًا یہی صورت بہت سے بت پرست ترکوں کے ساتھ بھی پیش آئی، جو اسلامی ملکوں پر یورشیں کیا کرتے تھے۔'' [1]
ظاہر ہے، کہ مسلمان بیویوں کی تبلیغ اسلام کے لیے یہ جدوجہد گھروں کے اندر ہی تھی۔
اس بارے میں دیگر پانچ شواہد:
۱: بیٹی کے گھر جاکر جبریل علیہ السلام کے سکھلائے ہوئے کلمات کی تعلیم۔ [2]
۲: عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں جاکر انہیں نصیحت۔ [3]
۳: ایک گھر میں جاکر قریش کو حالتِ اقتدار میں رحم اور عدل کی تلقین۔ [4]
۴: اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں جاکر انہیں شوہر کی وفات پر صبر کی تلقین۔ [5]
۵: بیمار خاتون کے گھر میں انہیں بخار کو برا بھلا کہنے سے روکنا۔ [6]
[2] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم ''ص۳۶۲۔۳۶۶۔
[3] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۱۳۹۔۱۴۰۔
[4] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:''دعوتِ دین کس چیز کی طرف دی جائے؟'' ص ۱۳۱۔۱۳۲۔
[5] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:''دعوتِ دین کسے دیں ؟'' ص ۱۷۷۔۱۷۸۔
[6] تفصیل اور حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو:''المرجع السابق'' ص ۱۷۶۔۱۷۷۔