فهرس الكتاب

الصفحة 113 من 193

اور اسی مقام پر اب مسجد نمرہ ہے۔

اس حدیث میں دیگر چھ فوائد:

۱: تشبیہ کا استعمال کرنا۔ [1]

۲: بات خوب واضح کرنے اور سمجھانے کے لیے ماحول سے استفادہ کرنا۔

۳: عمل کے ساتھ دعوت دینا۔ [2]

۴: سامعین کو شریکِ گفتگو کرنا۔ [3]

۵: گفتگو میں اشارے کا استعمال۔ [4]

۶: بات کا اعادہ کرنا۔ [5]

ب:عرفات اور مزدلفہ کے درمیان نصیحت:

امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ:

''أَنَّہُ دَفَعَ مَعَ النَّبِیِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم وَرَائَہُ زَجْرًا شَدِیدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلْإِبِلِ، فَأَشَارَ بِسَوْطِہِ إِلَیْہِمْ وَقَالَ:

''أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِالْإِیضَاعِ۔'' [6]

''بے شک وہ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (میدانِ عرفات سے) واپس آرہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اونٹوں کو ہانکنے کے

[2] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۹۵۔۱۹۶۔

[3] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۲۲۲۔۲۲۷۔

[4] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص۱۷۵۔۱۷۹۔

[5] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۱۵۴۔۱۶۷۔

[6] صحیح البخاري، کتاب الحج، رقم الحدیث ۱۶۷۱، ۳/۵۲۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت