فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 193

لیے)چیخ و پکار اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی، تو ان کی طرف اپنی چھڑی سے اشارہ کیا اور فرمایا:

''اے لوگو! آرام اور سکون (سے چلنے) کو لازم کرو۔ بے شک تیز چلنا نیکی (تو) نہیں۔''

اس حدیث سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت نے عرفات سے مزدلفہ واپسی کے دوران لوگوں کو اطمینان و سکون سے چلنے کی تلقین فرمائی۔

امام بخاری نے اس پر حسب ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ أَمْرِ النَّبِيِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم بِالسَّکِیْنۃِ عِنْدَ الَإِفَاضَۃِ] [1]

[ (عرفات سے) پلٹتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اطمینان و سکون سے (چلنے) کا حکم دینے کے متعلق باب]

ج:منیٰ میں یوم النحر [2] کو خطبہ:

امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ:

''أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟''

''بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو لوگوں کو خطبہ دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟''

''اے لوگو! یہ کون سا دین ہے؟''

قَالُوا:''یَوْمٌ حَرَامٌ۔''

''انہوں نے عرض کیا:'' (یہ) حرمت کا دن (ہے) ۔''

[2] قربانی کے دن یعنی دس ذوالحجہ کو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت