فهرس الكتاب
تینوں روایات میں دیگر آٹھ فوائد:
۱: شاگردوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید شوق اور لاثانی اہتمام۔
۲: بات بتلانے سے پیشتر اچھی طرح متوجہ کرنے اور اظہار تعلق کی خاطر نام لے کر مخاطب کرنا۔ [1]
۳: بات سمجھانے کی غرض سے گردوپیش میں موجود چیزوں سے استفادہ۔
۴: گفتگو کے ساتھ اشاروں کا استعمال۔ [2]
۵: بات کی اہمیت اجاگر کرنے اور مکمل توجہ مبذول کروانے کی خاطربات کا اعادہ کرنا۔ [3]
۶: گمراہ قیادت کے خطرات کی سنگینی۔
۷: بات بتلانے سے پیشتر شاگرد سے استفسار۔ [4]
۸: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہ کے ساتھ تواضع۔ [5]
امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے:
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ہمراہ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران سفر) صبح ہونے پر لوگوں کو نمازِ صبح پڑھائی۔ پھر لوگ سوار ہوئے۔ [6] لوگوں نے رات کے سفر کی بنا پر طلوعِ آفتاب کے وقت اونگھنا شروع
[2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۱۷۵۔۱۷۹۔
[3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۱۵۴۔۱۷۲۔
[4] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۲۲۲۔۲۲۷۔
[5] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:المرجع السابق ص ۳۲۵۔ ۳۳۳۔
[6] یعنی سوار ہوکر چل پڑے۔