فهرس الكتاب

الصفحة 88 من 193

''اے لوگو! تم [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] [1] کہو فلاح پالو گے۔''

البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا، روشن رو، مینڈھوں والا شخص کہہ رہا تھا:

''إِنَّہُ صَابِیئٌ کَاذِبٌ۔''۔معاذ اللّٰه۔۔

''بے شک وہ معاذ اللہ دین سے منحرف جھوٹا شخص ہے۔''

میں نے پوچھا:'' مَنْ ہٰذَا؟''

''یہ کون ہے؟''

انھوں (لوگوں) نے جواب دیا:

''مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم وَہُوَ یَذْکُرُ النُبُوَّۃَ۔''

''محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے۔''

میں نے پوچھا:

''مَنْ ہٰذَا الَّذِيْ یُکَذِّبُہُ۔''

''اسے جھٹلانے والا شخص کون ہے؟''

انہوں نے بتلایا:

''عَمُّہُ أَبُوْلَہَبٍ۔''

''اس کا چچا ابولہب ہے۔'' [2]

ب:سوق عکاظِ میں دعوت دین:

امام احمد نے اشعث بن سُلَیْم سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:''میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ امارت میں ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا:

[2] المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۶۰۲۳، ۲۵/۴۰۴۔۴۰۵۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اسے [صحیح لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۲۵/۴۰۵) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت