فهرس الكتاب

الصفحة 67 من 193

اہتمام۔

۲: وعظ و نصیحت میں ساتھیوں کو شریک کرنا اور انہیں نمائندہ بنا کر اس فریضہ کو ادا کرنے کا موقع دینا۔

۳: مسلمان خواتین کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے قاصد رضی اللہ عنہ کے لیے احترام و تعظیم۔

۴: تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت میں آیات قرآنیہ سے استشہاد و استفادہ۔

۵: مردوں کے خواتین کو دعوتِ دین دیتے وقت اسلامی احکام پردہ کی پابندی۔ [1]

۶: دعوتِ دین کی خشتِ اول شرک سے برأ ت کی تلقین۔

۷: وعظ و نصیحت میں موضوع سخن کے انتخاب میں سامعین کے حالات کا خیال رکھنا۔

و:ایک خاتون کے گھر میں خواتین کو وعظ و نصیحت:

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:

''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم ! ذَہَبَ الرِّجَالُ بِحَدِیْثِکَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ یَوْمًا نَأْتِیْکَ فِیْہِ، تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہ۔''

''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی (ساری) باتیں مرد لے گئے [2] اپنے وقت میں سے ایک دن ہمارے لیے مخصوص فرما دیجیے، کہ ہم اس میں

[2] یعنی وہ ہی سنتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت