فهرس الكتاب

الصفحة 129 من 193

''یَا أَبَاذَرٍّ - رضی اللّٰهُ عنہ -! أَرَأَیْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِیْدٌ، یَکُوْنُ الْبَیْتُ فِیْہِ بِالْعَبْدِ- یَعْنِیْ الْقَبْرِ- کَیْفَ تَصْنَعُ؟''

''اے ابوذر رضی اللہ عنہ ! اگر تم دیکھو، کہ لوگوں کو شدید موت پہنچ چکی ہے، یہاں تک کہ بندے کے گھر ہی میں - یعنی قبر- ہو، تو تم کیا کرو گے؟'' [1]

انہوں نے عرض کیا:''اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اِصْبِرْ۔''

''صبر کرنا۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''یَا أَبَاذَرٍّ! أَرَأَیْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ یَعْنِيْ۔ حَتّٰی تَغْرَقَ حِجَارَۃُ الزَّیْتِ مِنَ الدِّمَائِ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟''

''اے ابوذر رضی اللہ عنہ ! اگر تم دیکھو، کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو اس قدر زیادہ قتل کر رہے ہیں، کہ حجارۃ الزیت [2] خونوں میں غرق ہوگئی ہے، تو تم کیا کرو گے؟''

انہوں نے عرض کیا:''اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اُقْعُدْ فِيْ بَیْتِکَ، وَأَغْلِقْ عَلَیْکَ بَابَکَ۔''

''اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنے لیے اپنا دروازہ بند کرلینا۔''

انہوں نے عرض کیا:''فَإِنْ لَمْ أُتْرَکْ؟''

[2] (حجارۃ الزیت) :مدینہ طیبہ میں ایک جگہ کا نام۔ (ملاحظہ ہو:ہامش المسند ۳۵/۲۵۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت