فهرس الكتاب

الصفحة 108 من 130

تلاوت قرآن اورتدبر معانی :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔''

اصل مقصو د تدبر کرناہے ۔ جو کوئی اس بات کو پسند کرتاہو کہ وہ اللہ سے ہم کلام ہو ، اسے چاہیے کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

'' وہ لوگ جو تم سے پہلے گزر چکے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ قرآن ان کے رب کی طرف سے ان کی جانب چٹھیاں ہیں ، پس وہ راتوں کو اس میں تدبر کرتے تھے ، اور دن کو اس کے معانی کو تلاش کرتے تھے۔'' ( علم حاصل کرتے ، تفسیر سیکھتے تھے)

سورت ص آیت:۲۹میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

'' یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے ، بہت با برکت ہے ۔تاکہ اس کی آیات میں غور وفکر کیا جائے اور اہل عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔''

سورت محمدآیت ۲۴ میں فرمایا:

'' کیا وہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں ۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے ، اور یہ نیکی دس کے برابر ہے، اور میں نہیں کہتا کہ ''الم '' ایک حرف ہے ؛ بلکہ الف ایک حرف ، لام ایک حرف ، میم ایک حرف ہے ۔'' (ترمذی)

لہٰذاکوئی تفسیر جیسے مختصر ابن کثیر، احسن البیان ، مختصر طبری لے کر لفظ بلفظ پڑھ ڈالیں ، ایمان اور عمل میں اضافہ ہوگا ۔ کیونکہ قرأن سے محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کی دلیل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت