دعائیں و اذکارہیں ؛ جن میں ہمارے لیے سرا سر خیر ہی خیر ہے ؛ ان کا اہتمام کیجیے۔
کیونکہ انسان پران کی محفل کا اثر اس پر باقی رہتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ ، إِنْ لَمْ یُصِبْکَ مِنْہُ شَيْئٌ أَصَابَکَ مِنْ رِیْحِہٖ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْکِیْرِ ، إِنْ لَمْ یُصِبْکَ مِنْ سَوَادِہٖ أَصَابَکَ مِنْ دُخَانِہٖ۔ ) ) (صحیح ابو داؤد )
'' اور اچھی صحبت کی مثال کستوری والے کی ہے ، اگر آپ کو اس سے کچھ بھی نہ ملا، تب بھی خوشبو ضرور آپ کو پہنچے گی ۔ اور بری مجلس کی مثال بھٹی والے کی ہے ، اگر آپ کو اس کی سیاہی نہ لگی تو دہوئیں سے ضرور تکلیف ہوگی۔''
اور فرمایا:
(( اَلرَّجُلُ عَلیَ دِیْنِ خَلِیْلِہٖ ، فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ مَنْ یُخَالِلْ۔ ) ) (ابو داؤد)
'' انسان اپنے ہمراہی کے دین پرہوتا ہے، پس چاہیے کہ وہ دیکھے کس کو ہمراہ کیے ہے ۔''
اس معنی میں دیگربہت ساری احادیث ہیں ۔ کسی شاعر نے بہت خوبصورت انداز میں کہا:
جمال ہم نشین در من اثر کرد
ورنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم
اورعربی شاعر کہتا ہے:
فَتَشَبَّہُوْا بِالْکَرَامِ إِنْ لَمْ تَکُوْنُوْا
مِثْلَہُمْ إِنَّ التَّشَبُہَ بِالْکَرَامِ فَلَاحٌ