فهرس الكتاب

الصفحة 30 من 125

٭ حاشیۃ الجمل میں اس طرح ہے '' (وقولہ: مثل زائد) ایسا اس لیے ہے تاکہ اللہ کے لیے اور قرآن کے لیے مثل کا اثبات نہ لازم آئے۔'' ۱ھ

{فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ}

وفي الحدیث عن اللّٰه:'' من ذکرني في نفسہ ذکرتہ في نفسي۔۔۔الخ'' (۵۹ /۲۲)

٭بخاری (۷۴۰۵) مسلم (۲۶۷۵)

{بَلْ أَحْیَاء}

في حواصل طیور خضر،تسرح في الجنۃ حیث شاء ت۔۔۔لحدیث بذلک۔ (۶۰ /۲۲)

٭مسلم (۱۸۸۷) ابن مسعود کی روایت ہے۔

{وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ}

۔۔۔في الحدیث: ''من استرجع عند المصیبۃ آجرہ اللّٰه فیہا وأخلف علیہ خیرا'' (۶۰ /۲۲)

٭ صحیح مسلم (۹۱۸) میں اس مفہوم کی حدیث حضرت ام سلمہ سے مروی ہے۔

{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰهِ۔۔۔۔۔}

وبین صلی اللّٰه علیہ وسلم فرضیتہ بقولہ: ''إن اللّٰه کتب علیکم السعي'' رواہ البیہقي وغیرہ۔ (۶۱ /۲۳)

٭مسند احمد (۲۷۴۷۴) ۶ /۴۲۱ حبیبہ بنت ابی تجزأۃ کی حدیث ہے،اس کی سند ضعیف ہے۔

{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰهِ۔۔۔۔}

وقال: ''ابدؤوا بما بدأ اللّٰه بہ'' یعنی الصفا،رواہ مسلم (۶۱ /۲۳)

٭مسلم (۱۲۱۸) حضرت جابر بن عبد اللہ کی حدیث ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت