٭ حاشیۃ الجمل میں اس طرح ہے '' (وقولہ: مثل زائد) ایسا اس لیے ہے تاکہ اللہ کے لیے اور قرآن کے لیے مثل کا اثبات نہ لازم آئے۔'' ۱ھ
{فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ}
وفي الحدیث عن اللّٰه:'' من ذکرني في نفسہ ذکرتہ في نفسي۔۔۔الخ'' (۵۹ /۲۲)
٭بخاری (۷۴۰۵) مسلم (۲۶۷۵)
{بَلْ أَحْیَاء}
في حواصل طیور خضر،تسرح في الجنۃ حیث شاء ت۔۔۔لحدیث بذلک۔ (۶۰ /۲۲)
٭مسلم (۱۸۸۷) ابن مسعود کی روایت ہے۔
{وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ}
۔۔۔في الحدیث: ''من استرجع عند المصیبۃ آجرہ اللّٰه فیہا وأخلف علیہ خیرا'' (۶۰ /۲۲)
٭ صحیح مسلم (۹۱۸) میں اس مفہوم کی حدیث حضرت ام سلمہ سے مروی ہے۔
{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰهِ۔۔۔۔۔}
وبین صلی اللّٰه علیہ وسلم فرضیتہ بقولہ: ''إن اللّٰه کتب علیکم السعي'' رواہ البیہقي وغیرہ۔ (۶۱ /۲۳)
٭مسند احمد (۲۷۴۷۴) ۶ /۴۲۱ حبیبہ بنت ابی تجزأۃ کی حدیث ہے،اس کی سند ضعیف ہے۔
{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰهِ۔۔۔۔}
وقال: ''ابدؤوا بما بدأ اللّٰه بہ'' یعنی الصفا،رواہ مسلم (۶۱ /۲۳)
٭مسلم (۱۲۱۸) حضرت جابر بن عبد اللہ کی حدیث ہے۔