فهرس الكتاب
{وَلَوْ تَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ} (۶۳ /۲۳)
٭ (تری) نافع اور ابن عامر کی قراء ت ہے۔
{فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ} ۔۔۔متعد علیہم بقطع الطریق۔ (۶۵ /۲۴)
٭ ابن کثیر نے (غیر باغ ولا عاد) کی تفسیر میں کہا ہے: من غیر بغي ولا عدوان،وہو مجاوزۃ الحد۔ (ص)
'' یعنی حالت اضطرار میں ممنوعہ چیزوں کو کھاتے وقت حد سے تجاوز نہ کیا جائے''
{أُولَئِکَ مَا یَأْکُلُونَ فِیْ بُطُونِہِمْ إِلاَّ النَّارَ}
لأنہا مآلہ (۶۴ /۲۵)
٭ ای مآل ما یأخذونہ (حاشیۃ الجمل)
{کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ۔۔۔۔۔۔الخ}
حدیث: ''لا وصیۃ لوارث'' رواہ الترمذي (۶۶ /۲۶)
٭ صحیح الترمذي (۲۲۱۸)
{أَیَّامًا مَّعْدُودَاتٍ} نصب بــ ''الصوم'' (۶۸ /۲۶)
٭ بعض نسخوں میں بــ ''الصوم'' کی جگہ بــ ''الصیام '' ہے۔
{وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ۔۔۔۔۔}
سأل جماعۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم: أقریب ربنا…فنزل (۶۹ /۲۷)
٭ ابن ابی حاتم (۱۶۶۷۔البقرۃ:۱۸۶) نے معاویہ بن حیدہ قشیری سے روایت کیا ہے۔
{فَاذْکُرُواْ اللّٰهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۔۔۔۔}
وفی الحدیث:أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم وقف (بہ) یذکر اللّٰه۔۔۔۔،رواہ مسلم۔