فهرس الكتاب

الصفحة 31 من 125

{وَلَوْ تَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ} (۶۳ /۲۳)

٭ (تری) نافع اور ابن عامر کی قراء ت ہے۔

{فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ} ۔۔۔متعد علیہم بقطع الطریق۔ (۶۵ /۲۴)

٭ ابن کثیر نے (غیر باغ ولا عاد) کی تفسیر میں کہا ہے: من غیر بغي ولا عدوان،وہو مجاوزۃ الحد۔ (ص)

'' یعنی حالت اضطرار میں ممنوعہ چیزوں کو کھاتے وقت حد سے تجاوز نہ کیا جائے''

{أُولَئِکَ مَا یَأْکُلُونَ فِیْ بُطُونِہِمْ إِلاَّ النَّارَ}

لأنہا مآلہ (۶۴ /۲۵)

٭ ای مآل ما یأخذونہ (حاشیۃ الجمل)

{کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ۔۔۔۔۔۔الخ}

حدیث: ''لا وصیۃ لوارث'' رواہ الترمذي (۶۶ /۲۶)

٭ صحیح الترمذي (۲۲۱۸)

{أَیَّامًا مَّعْدُودَاتٍ} نصب بــ ''الصوم'' (۶۸ /۲۶)

٭ بعض نسخوں میں بــ ''الصوم'' کی جگہ بــ ''الصیام '' ہے۔

{وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ۔۔۔۔۔}

سأل جماعۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم: أقریب ربنا…فنزل (۶۹ /۲۷)

٭ ابن ابی حاتم (۱۶۶۷۔البقرۃ:۱۸۶) نے معاویہ بن حیدہ قشیری سے روایت کیا ہے۔

{فَاذْکُرُواْ اللّٰهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۔۔۔۔}

وفی الحدیث:أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم وقف (بہ) یذکر اللّٰه۔۔۔۔،رواہ مسلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت