فهرس الكتاب
جس کو علامہ البانی نے ضعیف کہا ہے،اور (۲۸۹۷) بروایت ابن عباس،یہ بھی ضعیف ہے۔
{وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لا یَضِرْکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْْئًا} (۱۴۳ /۵۳)
٭ ''لا یَضِرْکم'' ضاد کے کسرے اور راء کے سکون کے ساتھ نافع،ابن کثیر اور ابوعمرو کی قراء ت ہے۔
{إِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْطٌ} بالیاء والتاء (۱۴۳ /۵۹)
٭ تاء کے ساتھ جو قراء ت آئی ہے وہ شاذ قراء ت ہے۔
{إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔۔۔۔}
توعدہم تطمینا۔۔۔۔ (۱۴۴ /۵۹)
٭ یہ بات معلوم ہے کہ ''وَعَد'' کا استعمال خیر میں اور ''أوعد'' کا استعمال شر میں ہوتا ہے،یہاں پر پہلا (یعنی:وعد) ہی مناسب تھا،لہٰذا اس کا مضارع ''تعدہم'' ہونا چاہیے،اور بعض نسخوں میں اسی طرح ہے۔ (حاشیۃ الجمل)
{لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْْء۔۔۔۔}
''ونزل لما کسرت۔۔۔۔۔کیف یفلح قوم خضبوا وجہ نبیہم بالدم''
٭ مسلم (۱۷۹۱) بروایت انس۔ (۱۴۵ /۶۰)
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}
بألف ودونہا (۱۴۵ /۶۰)
٭ یعنی: ''مُضَاعَفَۃً'' اور ''مُضَعَّفَۃً''
{الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ فِیْ السَّرَّاء وَالضَّرَّاء۔۔۔۔۔وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ}
ای یثیبہم (۱۴۶ /۶۰)
٭ ''محبت'' کی تفسیر ثواب دینے سے اور عدم محبت کی تفسیر سزا دینے سے جو کی جاتی ہے اس پر سورہ بقرہ (آیت نمبر:۲۲۲) اور سورہ آل عمران (آیت نمبر:۳۱) میں گفتگو