٭ أَنْجَیْتَنَا نافع،ابن کثیر،ابوعمرواور ابن عامر کی قراء ت ہے۔
{قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ۔۔۔}
قال صلی اللّٰه علیہ وسلم: لما نزلت:ھذا أھون۔۔۔رواہ البخاری (۲۸۳ /۱۱۷)
٭ بخاری (۴۶۲۸)
{قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ۔۔۔}
وروی مسلم حدیث:''سألت ربي۔۔۔فمنعنیہا'' (۲۸۳ /۱۱۷)
٭ مسلم (۲۸۹۰)
{قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ۔۔۔}
وفی حدیث:''لما نزلت قال:أما إنہا کائنۃ ولم یأت تأویلہا بعد' (۲۸۳ /۱۱۷)
٭ ضعیف سنن الترمذی للألبانی (۳۲۷۴) احمد:۱ /۱۷۱،احمد محمد شاکر نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے۔
{وَیَوْمَ یَقُولُ کُن فَیَکُونُ قَوْلُہُ الْحَقُّ۔۔}
واذکر یوم یقول (۲۸۵ /۱۱۸)
٭ ہمارے نسخے (حاشیۃ الجمل) میں (واذکر ویوم) ہے،واو مکرر ہے۔
{وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ لأَبِیْہِ آزَرَ۔۔}
ھو لقبہ واسمہ تارح (۲۸۶ /۱۱۸)
٭ ہمارے نسخے (حاشیۃ الجمل) میں (تارح) ایسے ہی ہے،اس لفظ کو بعض لوگوں نے حاء غیر منقوطہ کے ساتھ بتلایا ہے اور بعض نے خاء منقوطہ کے ساتھ۔
{وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ۔۔}
۔۔ونون الوقایۃ عند الفراء (۲۸۷ /۱۱۹)
٭ (الفراء) یہاں بعض نسخوں میں (عند القراء) قاف سے ہے،غالبًا یہ غلط