ہے،واللّٰه أعلم [1]
{وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْمًا أَفَلاَ تَذَکَّرُون} ہذا فتومنون۔ (۲۸۷ /۱۱۹)
٭ (فتومنون) معطوف ہے،نفی کا جواب نہیں ہے،ورنہ منصوب ہوتا جیسا کہ حاشیۃ الجمل کے حوالے سے پہلے گذر چکا ہے۔
{الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْمٍ۔۔۔۔}
بشرک،کما فسر بذلک فی حدیث الصحیحین (۲۸۸ /۱۱۹)
٭ بخاری (۴۶۲۹) مسلم (۲۴)
{وَمَا قَدَرُواْ اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِہِ۔۔۔۔}
یجعلونہ: بالیاء والتاء فی المواضع الثلاثۃ (۲۹۰ /۱۲۰)
٭ یعنی (یجعلون،یبدون،یخفون) تینوں میں ابن کثیر اور ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
{لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنُکُمْ۔۔۔۔۔۔} (۲۹۱ /۱۲۱)
٭ (بَیْنُکُمْ) نون کے ضمہ کے ساتھ ابن کثیر،ابوعمرو،ابن عامر اور ابوبکر عن عاصم کی قراء ت ہے۔
{وَہُوَ الَّذِیَ أَنشَأَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ فَمُسْتَقِرٌّ۔۔۔۔} (۲۹۲ /۱۲۱)
٭ (مُسْتَقِرٌّ) قاف کے کسرے کے ساتھ ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراء ت ہے۔
{انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ۔۔۔۔۔۔}
یا مخاطبین (۲۹۳ /۱۲۱)
٭ (مخاطبین) نکرہ غیر معینہ ہونے کی بنا پر (حالت نصب میں) ہے،بعض نسخوں میں ''مخاطبون'' ہے جو کہ واضح ہے۔