فهرس الكتاب

الصفحة 109 من 266

{ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّٰه ۚ إِنَّ اللّٰه يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ 222}

''اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہو جائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہو جائیں تو جس طریق سے اللہ نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔''

'' يَطْهُرْنَ'' میں دوسری قراءت طاء اور ھا کی تشدید کے ساتھ '' يَطَّهَّرْنَ'' ہے، جس سے طہارت میں مبالغہ کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔ جبکہ '' يَطْهُرْنَ'' مطلق طہارت پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا '' يَطْهُرْنَ'' کو '' يَطَّهَّرْنَ'' یعنی خوب طہارت کے معنی پر محمول کیا جائے گا، [1] اگر عورت کا دم حیض منقطع ہو جائے تو وہ طاہر ہو جاتی ہے، لیکن اس سے جماعے کے لیے ضروری ہے کہ خون رکنے کے بعد غسل کر لے اور نہا دھو کر پاک صاف ہو جائے، اسی طرف '' يَطَّهَّرْنَ'' کی قراءت میں واضح اشارہ پایا جاتا ہے، امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے صراحتًا لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے علاوہ دیگر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حیض منقطع ہونے کے بعد جب تک عورت غسل نہ کر لے اپنے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ [2]

مثال نمبر 2

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ} (البقرۃ:238)

'' (مسلمانو) سب نمازیں خصوصًا بیچ کی نماز پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔''

[2] تفسير ابن كثير: 1/364

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت