بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور حذیفہ رضی اللہ عنہم نے وہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ سن رکھی تھی، لیکن اسے آگے روایت کرتے ہوئے آپ کی طرف نسبت نہیں فرمائی، جبکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور انہوں نے صراحتًا آپ کی طرف منسوب فرما دی۔
اسی حوالے سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محدثِ شہیر خطیب بغدادی کا ایک اقتباس نقل کر دیا جائے، جس سے مرفوع و موقوف کے بعض پہلو واضح ہو جاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:
'' اختلاف الروايتين في الرفع والوقف لا يؤثر في الحديث ضعفًا، لجواز أن يكون الصحابي يُسند الحديث ويرفعه إلى النبي يَةِ مرة، ويذكره مرة على سبيل الفتويٰ ولا يرفعه، فحفظ الحديث عنه علي الوجهين جميعا۔ وقد كان سفيان بن عيينة يفعل هذا كثيرا في حديثه، فيرويه تارة مسندا مرفوعًا ويقفه مرة أخري قصدًا و اعتمادًا۔۔۔'' [1]
''کسی روایت کو مرفوع اور موقوف بیان کرنے میں اختلاف، حدیث کی تضعیف میں اثرانداز نہیں ہوتا، کیونکہ صحابی بعض دفعہ حدیث کو مرفوع و مسند بیان کر سکتا ہے اور وہی بات بطور فتویٰ بھی بیان کر سکتا ہے۔ تو حدیث دونوں طرح صحابی سے منقول ہو جاتی ہے۔ امام سفیان بن عیینہ اس طرح بکثرت کیا کرتے تھے، ایک حدیث کو مرفوعًا مسندًا بیان کرتے پھر اس حدیث کو موقوفًا بھی بیان کر دیتے اور قصدًا ایسا کرتے۔''
اگر کچھ صحابہ کرام سے تفسیری اقوال منقول ہوں اور دیگر صحابہ سے کسی قسم کا کوئی