فهرس الكتاب

الصفحة 228 من 266

معتزلہ چونکہ تقدیر کے منکر ہیں، اس لیے انہیں ''قدریہ'' فرقہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے ''القدریہ'' بھی کہا جاتا ہے۔ فرقہ جہمیہ خلقِ قرآن کا قائل ہے اور معتزلہ بھی یہی رائے رکھتے ہیں، اس لیے انہیں ''جہمیہ'' بھی کہا جاتا ہے۔ معتزلہ صفاتِ الٰہی کے منکر ہیں، اس بناء پر انہیں ''معطلہ'' بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن معتزلہ اپنے لیے یہ نام پسند نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے آپ کو ''اهل العدل والتوحيد'' کہتے ہیں۔ [1]

قدیم فرقہ معتزلہ

معتزلہ کے تفسیری اصول ان کے خود ساختہ عقائد و نظریات کے تابع تھے، اس لیے مختصرًا ان کے عقائد کو جاننا ضروری ہے، معتزلہ کے بنیادی عقائد پانچ ہیں: [2]

(1) توحید

(2) عدل

(3) وعدہ و وعید

(4) منزلة بين المنزلتين

(5) أمر بالمعروف و نهي عن المنكر

(1) توحید

معتزلہ کے نزدیک توحید سے مراد صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار، ذات کا اثبات اور عقیدہ خلق قرآن کا اظہار ہے، معتزلہ کے نزدیک ان میں سے کسی بھی عقیدہ کا منکر کافر ہے۔ [3]

[2] شرح الأصول الخمسة، قاضي عبدالجبار الهمداني (متوفي 415ه) ص 124، (بحواله: منهج المدرسة العقلية الحديثه، د۔ فهد الرومي، 1/44)

[3] ايضًا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت