فهرس الكتاب

الصفحة 221 من 266

''جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔''

امام زرکشی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''اعْلَمْ أَنَّهُ لَا يَحْصُلُ لِلنَّاظِرِ فَهْمُ مَعَانِي الْوَحْيِ وَلَا يَظْهَرُ لَهُ أَسْرَارُهُ وَفِي قَلْبِهِ بِدْعَةٌ أَوْ كِبْرٌ أَوْ هَوًى أَوْ حُبُّ الدُّنْيَا أَوْ وَهُوَ مُصِرٌّ عَلَى ذَنْبٍ أَوْ غَيْرُ مُتَحَقِّقٍ بِالْإِيمَانِ أَوْ ضَعِيفُ التَّحْقِيقِ أَوْ يَعْتَمِدُ عَلَى قَوْلِ مُفَسِّرٍ لَيْسَ عِنْدَهُ عِلْمٌ أَوْ رَاجَعٌ إِلَى مَعْقُولِهِ وَهَذِهِ كُلُّهَا حُجُبٌ وَمَوَانِعُ بَعْضُهَا آكَدُ مِنْ بَعْضٍ'' [1]

''جان لیجئے! جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، خواہش نفس، حب دنیا سمائی ہو یا وہ گناہ پر مصر ہو یا اس کا ایمان مشکوک ہو یا تحقیق میں کمزور ہو یا کسی بے علم مفسر کے قول پر اعتماد کرنے والا ہو، یا محض اپنی عقل کو سب کچھ سمجھتا ہو تو یہ سب ایسی رکاوٹیں اور موانع ہیں کہ ان سے متصف شخص کو مفاہیم وحی کا علم حاصل ہو سکتا ہے نہ اس پر وحی کے اسرار و رموز ہی منکشف ہوتے ہیں۔''

مفسِّر کے لیے ضروری علوم

جو مفسر صرف احادیث و آثار پر اکتفاء نہ کرنا چاہتا ہو بلکہ اپنے فکروفہم اور عقل و اجتہاد کو وسعت دیتے ہوئے قرآنی حقائق و معارف میں غوطہ زن ہو کر نئے نئے گوہر تلاش کرنا چاہتا ہو تو ایسے مفسر کے لیے بالخصوص چند ایسے بنیادی علوم سے واقف ہونا ضروری ہو جو اسے تفسیری اخطاء و انحرافات سے بچا سکیں۔

وہ علوم کون سے ہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء درج ذیل پندرہ علوم کی فہرست پیش کرتے ہیں: [2]

[2] ملاحظہ ہو: التَّيسير في قواعد علم التفسير، كافيجي: ص 144، الاتقان، سيوطي: 865-866، التفسير والمفسرون، ذهبي: 1/231-232، دراسات في مناهيج المفسرين د، ابو عمر نادي، أستاذ التفسير، جامعة اسلاميه مدينه منوره، ص 561

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت