فهرس الكتاب

الصفحة 168 من 266

یہ تمام تقسیمات زیادہ تر کتبِ اصولِ فقہ کی روشنی میں وضع کی گئی ہیں، جو کہ اصول تفسیر میں بھی مشعلِ راہ ہیں۔ تاہم اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ قولِ صحابی پر کتب تفاسیر کی روشنی میں مستقلًا تحقیق کی جائے۔ تمام اقوال صحابہ کو یکجا کر کے، اسنادی تحقیق و تنقیح کے بعد تحلیل و تجزیہ ہو اور پھر اس کی روشنی میں نتائج مرتب کیے جائیں۔

(6)صحابی کی لغوی تشریح

صحابی اگر قرآن مجید کے کسی کلمہ، ترکیب یا محاورہ کی لغوی تشریح پیش کر رہا ہو تو وہ بھی حجت ہے، کیونکہ صحابہ خود اہل زبان ہیں۔ [1]

صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث و تفسیر میں اس کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔

امام بخاری سورۃ مدثر کی تفسیر میں لکھتے ہیں: '' قال ابن عباس:عَسِيرٌ: شديد'' [2] عَسِيرٌ کا معنی سخت ہے، مزید لکھتے ہیں: '' قال ابوهريرة: قَسْوَرَةٍ: قَسْوَرَ الأسد'' [3] قَسْوَرَةٍ سے مراد شیر اور اس کا حملہ ہے۔

سورۃ المزمل میں ارشاد ربانی ہے: { وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا 14} ''اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہو جائیں'' اس کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: '' { كَثِيبًا مَّهِيلًا} : الرَّمل السائل'' اس سے مراد بہتی ریت ہے۔ [4]

(7) حجیتِ قولِ صحابی کی نوعیت اور صحابی کا شاذ قول

(1) تفسیرِ قرآن میں قولِ صحابی حجتِ مستقلہ نہیں ہے، بلکہ حجت بالغیر ہے، اس کی حجیت دیگر دلائل و قرائن کی بنیاد پر ہے۔ اس لیے انفرادی طور پر کسی صحابی کا غیر معروف قول درج ذیل شروط کے ساتھ حجت ہو گا۔

٭ اس میں کسی نصِ شرعی کی مخالفت نہ ہو۔

[2] صحيح البخاري، كتاب التفسير، المدثر، قبل الحديث

[3] ايضًا

[4] ايضًا، قبل حديث 4921

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت