فهرس الكتاب

الصفحة 67 من 266

{لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ} کی تفسیر بالمأثور

یہاں '' زِيَادَةٌ'' سے کیا مراد ہے؟ اس کی تعیین لغوی معنی اور سیاق کلام سے بھی ممکن نہیں۔ تفسیر بالمأثور میں جو اس کی تشریح ملتی ہے، اس سے وہی حظ اٹھا سکتے ہیں، جن کے دلوں میں ایمان کے انگارے سلگتے اور جن کی دھڑکنیں حب الٰہی کے لیے دھڑکتی ہوں۔

عن صهيب عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في قوله تعالى: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الحُسْنَى وَزِيَادَةٌ [يونس: 26] قال: (( إذا دخل أهل الجنة الجنة نادى مناد: إن لكم عند اللّٰه موعدًا يريد أن ينجزكموه، قالوا: ألم يبيض وجوهنا؟ ألم ينجنا من النار؟! ألم يدخلنا الجنة؟! قالوا: بلى، فيكشف الحجاب, فواللّٰه ما أعطاهم شيئًا أحب إليهم من النظر إليه ) ) [1]

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ} کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے اپنا وعدہ پورا کرے۔ وہ (ایک دوسرے سے) کہیں گے: کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا؟ کیا اس نے ہمیں دوزخ کی آگ سے نجات نہیں دی؟ کیا اس نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟'' (یعنی سب کچھ تو مل گیا ہے تو اور کون سا وعدہ ہے جو ابھی تک پورا نہیں ہوا؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس موقع پر پردہ اٹھا لیا جائے گا۔'' (اور اہل جنت کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہو جائے گا۔) فرمایا: ''اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دیدار سے زیادہ محبوب و مرغوب کچھ نہیں دیا ہو گا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت