فهرس الكتاب

الصفحة 230 من 266

بندے کے فعل سے ہے، خود بندہ اپنے فعل کی بناء پر ثواب و عذاب کا مستحق ہوتا ہے، جب بندہ نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہو جاتا ہے کہ اسے ثواب دے اور جب بندہ برائی کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہو جاتا ہے کہ اسے عذاب دے۔ [1]

(4) منزلة بين المنزلتين

معتزلہ کے نزدیک مرتکبِ کبیرہ ایمان و کفر کے دونوں مراتب (منزلتین) کے درمیان ایک علیحدہ مقام (منزلہ) کا حامل ہوتا ہے اور وہ مخلد فی النار ہے، اگرچہ اس کا عذاب کافروں کے عذاب سے کم تر ہو گا۔ [2]

(5) أمر بالمعروف و نهي عن المنكر

معتزلہ کے نزدیک امر بالمعروف میں نیکی کی تلقین کر دینا کافی ہے، جبکہ نہی عن المنکر میں صرف زبانی روک ٹوک کافی نہیں بلکہ عملًا روکنا ضروری ہے، چاہے اس کے لیے معاملہ قتال تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔ [3]

معتزلہ کے نزدیک بنیادی اصول تفسیر

مذکورہ بالا عقائد اور ان کی معروف تفسیرات کی روشنی میں معتزلہ کے بنیادی اصولِ تفسیر درج ذیل ہیں:

پہلا اصول: علم و حکمت کا سرچشمہ عقل ہے نہ کہ نقل

معتزلہ عقل انسانی پر مستحکم ایمان رکھتے ہیں، ان کے نزدیک عقل کے ذریعے سے ہر چیز کا ادراک ممکن ہے۔

[2] الملل والنحل، شهرستاني، 1/45

[3] شرح الأصول الخمسة، قاضي عبدالجبار، ص 744-745

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت