فهرس الكتاب

الصفحة 116 من 266

بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔'' (النساء:7)

اس میں حصے کی تعیین نہیں کی گئی۔ چند آیات کے بعد اس کی تفصیل پیش فرمائی: { يُوصِيكُمُ اللّٰه فِي أَوْلَادِكُمْ} ''اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو وصیت کرتا ہے۔'' [1]

(4) خود قرآن مجید کی روشنی میں اطلاقات قرآنی کی تقیید کرنا

مطلق کی لغوی تعریف

''طلق'' کا مادہ عربی زبان میں آزادی، چھوٹ اور کشادگی پر دلالت کرتا ہے۔ [2] کھلے ہاتھ والے سخی انسان کو '' طلق اليدين'' کہتے ہیں۔ [3] وہ اونٹنی جسے قبیلہ بھر میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہو، اور کہیں سے بھی چارہ کھا سکتی ہو اسے عرب لوگ '' طالقة'' کہتے ہیں۔ [4] بے لگام اونٹنی کو بھی '' ناقة طالق'' کہتے ہیں۔ [5] قیدی کو آزاد کر دیا جائے تو اسے '' طليق'' کہتے ہیں۔ [6] حلال چیز کو '' طلق'' کہتے ہیں، کیونکہ اسے پابندی لگائے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ [7]

مطلق کی اصطلاحی تعریف

'' هو اللفظ المتناول لواحد لا بعينه، باعتبار حقيقة شاملة لجنسه'' [8]

''وہ لفظ معین جو ایک فرد کی بجائے، اپنی جنس پر بطور ایک حقیقت شاملہ دلالت کرے اسے ''مطلق'' کہتے ہیں۔''

امام سیوطی نے مطلق کی یہ تعریف کی ہے: '' المطلق الدال علي الماهية بلا قيد'' [9]

[2] معجم مقاييس اللغة، ابن فارس، 3/420، ماده "طلق"

[3] القاموس المهيط، فيروز آبادي، 2/1200

[4] ايضًا

[5] ايضًا

[6] ايضًا

[7] معجم مقاييس اللغة: 420

[8] ارشاد الفحول، شوكاني، ص 164، المفردات، راغب اصفهاني، ص 253

[9] الاتقان، ص 54 (النوع التاسيع والاربعون في مطلقه، مقيده)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت