فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 266

اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل نہ کرو اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔''

ایک اور موقع پر آپ نے ایک صحابی سے یوں فرمایا:

(( ان اللّٰه ينهاك أن تعبد المخلوق وتدع الخالق، وينهاك أن تقتل ولدك و تغذو كلبك، وينهاك أن تزني بحلية جارك ) ) [1]

'' (اے میرے صحابی) بےشک اللہ تعالیٰ تجھے اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تو خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرے اور اس بات سے بھی منع فرماتا ہے کہ تو اپنے کتے کو کھلاتا پھرے اور اپنی اولاد کو قتل کر دے اور تجھے اس سے بھی منع کرتا ہے کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔''

مذکورہ تینوں احادیث میں غوروفکر کرنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ قرآن مجید کے بیان کردہ مضمون کو انتہائی خوبصورت انداز میں حسب توقع اپنی احادیث مبارکہ میں بیان فرمایا کرتے تھے۔

مثال نمبر 2

سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{ إِنَّ اللّٰه لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ}

''اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے معاف کر دے۔'' (النساء:48)

بعینہٖ یہی مضمون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کرتے ہوئے فرمایا:

(( ما من نفس تموت، لا تشرك باللّٰه شيئًا الا حلت لها المغفرة ان شاءاللّٰه عذبها وان شاء غفرلها ) ) [2]

[2] تفسير ابن ابي حاتم، بحواله تفسير ابن كثير، 1/101

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت