و الترھیب رقم (1622 ) )"اےفاطمہ اپنی قربانی کےجانورکےپاس جاؤ، کیونکہ اس کےبہنے والے خون کےپہلے قطرےکے بدلےتمہارے کئے گئے سارےگناہ معاف کردئےجائیں گے"فاطمہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا:اے اللہ کےرسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! یہ ہم اہل بیت کے لیےخاص ہے یاتمام مسلمانوں کےلئے (عام) ہے ؟ توآپ نےفرمایا:"ہمارےاور تمام مسلمانوں کےلئے (عام) ہے"
اور أبو القاسم الأصبهاني نے علي رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہےجس کےالفاظ یہ ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك فإن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بلحمها ودمها توضع في ميزانك سبعين ضعفا"قال أبو سعيد:يا رسول اللّٰه! هذا لآل محمد خاصة فإنهم أهل لما خصوا به من الخير أو للمسلمين عامة ؟ قال:"لآل محمد خاصة وللمسلمين عامة"الاصبھانی فی الترغیب و الترھیب رقم (348) والمنذری فی الترغیب و الترھیب رقم (1623 ) )
"اےفاطمہ اپنی قربانی کےجانورکےپاس جاؤ، کیونکہ اس کےبہنے والےخون کاپہلاقطرہ تمہارےسارےگناہوں کےلیے مغفرت کاسبب ہے، قیامت کےدن اس کاگوشت اورخون لایاجائےگا اور تمہارے میزان (ترازو) میں سترگنازیادہ کرکے رکھ دیاجائےگا"ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نےپوچھا:اےاللہ کےرسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اہل بیت کاخیرکےاہل ہونےکی بنیاد پر یہ ان کےساتھ خاص ہے یا (تمام) مسلمانوں کےلئےعام ہے؟ توآپ نےفرمایا:"آل محمد کےلئے خاص ہےاورتمام مسلمانوں کےلئے عام ہے"
اس کوامام البانی نے ضعیف قراردیاہے (دیکھیے:ضعیف الترغیب)