فهرس الكتاب

الصفحة 59 من 67

و الترھیب رقم (1622 ) )"اےفاطمہ اپنی قربانی کےجانورکےپاس جاؤ، کیونکہ اس کےبہنے والے خون کےپہلے قطرےکے بدلےتمہارے کئے گئے سارےگناہ معاف کردئےجائیں گے"فاطمہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا:اے اللہ کےرسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! یہ ہم اہل بیت کے لیےخاص ہے یاتمام مسلمانوں کےلئے (عام) ہے ؟ توآپ نےفرمایا:"ہمارےاور تمام مسلمانوں کےلئے (عام) ہے"

اور أبو القاسم الأصبهاني نے علي رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہےجس کےالفاظ یہ ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك فإن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بلحمها ودمها توضع في ميزانك سبعين ضعفا"قال أبو سعيد:يا رسول اللّٰه! هذا لآل محمد خاصة فإنهم أهل لما خصوا به من الخير أو للمسلمين عامة ؟ قال:"لآل محمد خاصة وللمسلمين عامة"الاصبھانی فی الترغیب و الترھیب رقم (348) والمنذری فی الترغیب و الترھیب رقم (1623 ) )

"اےفاطمہ اپنی قربانی کےجانورکےپاس جاؤ، کیونکہ اس کےبہنے والےخون کاپہلاقطرہ تمہارےسارےگناہوں کےلیے مغفرت کاسبب ہے، قیامت کےدن اس کاگوشت اورخون لایاجائےگا اور تمہارے میزان (ترازو) میں سترگنازیادہ کرکے رکھ دیاجا‏ئےگا"ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نےپوچھا:اےاللہ کےرسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اہل بیت کاخیرکےاہل ہونےکی بنیاد پر یہ ان کےساتھ خاص ہے یا (تمام) مسلمانوں کےلئےعام ہے؟ توآپ نےفرمایا:"آل محمد کےلئے خاص ہےاورتمام مسلمانوں کےلئے عام ہے"

اس کوامام البانی نے ضعیف قراردیاہے (دیکھیے:ضعیف الترغیب)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت