فهرس الكتاب

الصفحة 61 من 67

وتحلق عانتك فتلك تمام أضحيتك عند اللّٰه عز وجل" (ابو داؤد:الضحایا/1(2789) النسائی:الضحایا /2 (رقم 4370 ) ) "

"مجھےقربانی کےدن کواس امت کےلئے عیدکادن بنانےکاحکم دیا گیا ہے"ایک آدمی نےپوچھا:اگرمجھےمادہ جانورہی ملےتوکیامیں اس کی قربانی کرسکتا ہوں؟ توآپ نےفرمایا:"نہیں لیکن اگرتم اپنے بال منڈواؤ، ناخن تراشو، مونچھے کترو اورزیرناف بال بنا‌ؤ تواس سےاللہ تعالی کےنزدیک تمہاری قربانی پوری ہوجائےگی"

شیخ البانی نےاس روایت کوضعیف قراردیاہے (دیکھیے:ضعیف الجامع الصغیر(1265 ) (لیکن دکتورمساعد الراشدنے"احکام العیدین"للفریابی کی تحقیق میں متعدد متابعات اورشواہدکی بناپراس کو حسن قراردیاہے/احمدمجتبی سلفی ) ۔

5 -عن الحسن بن عليّ رضي اللّٰه عنهما قال:قال رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم:"من ضحى طيبة بها نفسه محتسبًا الأضحية كانت له حجابا من النار" (رواہ الطبرانی فی الکبیر کما فی مجمع الزوائد(4/17 ) )"جس نے بطیب خاطر ‌قربانی کےثواب کی نیت سےقربانی کیاتووہ قیامت کےدن اس کےلئے جہنم سے پردہ ہوجائےگا"

ہیثمی فرماتےہیں:"اس کی سند میں سليمان بن عمرو النخعي کذاب ہے" (دیکھیے:مجمع الزوائد(4/17 ) )

ابن حبان ان کے سلسلےمیں کہتے ہیں کہ:"یہ بظاہرصالح آدمی تھالیکن حدیثیں گھڑاکرتاتھا"اورشیخ البانی نےاسےموضوع قراردیاہے (دیکھیے:الضعیفۃ(2/15) رقم (529 ) ) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت