شرعی نقطۂ نظر سے مضاربہ ایگریمنٹ میں سرمایہ کارکا حق فائق ہوتا ہے یعنی وہ مضارب پر کسی مخصوص شخص یا کمپنی کے ساتھ لین دین کرنے یا کسی خاص جگہ پر کاروبار کرنے کی پابندی عائد کر سکتا ہے اور ان اشیاء کا تعین بھی کر سکتا ہے جن کے علاوہ تجارت نہیں کی جاسکتی اور اگر مضارب اس کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو وہ سرمایہ کار کے سرمائے کا ذمہ دار ہوگا جیساکہ حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ جب وہ کسی کو مضاربہ پر مال دیتے تو یہ شرط عائد کرتے:
"أن لاتجعل مالي فی کبد رطبة ولا تحمله فی بحر ولاتنزله به فی بطن مسيل ،فان فعلت شيئا من ذلک فقد ضمنت مالی". [1]
'' میرے مال سے جانور نہیں خریدوگے اور نہ اس سے سمندر اور کسی وادی میں تجارت کرو گے اور اگر تم نے ایسا کیا تو میرے مال کے نقصان کی ذمہ داری تم پر ہوگی ۔''
مروجہ اسلامی بینکوں کے کھاتے داران اس حوالے سے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیںکیونکہ ان کا کام صرف رقوم جمع کرانا ہے ۔ ان رقوم سے کونسا کاروبار کرنا ہے یا بینک اس کو کہاں استعمال کرے گا یہ اس کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے،کھاتے دار اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے ۔چنانچہ ہر اسلامی بینک کے اکاؤنٹ اوپننگ فارم میں یہ صراحت ہوتی ہے:
''بینک بحیثیت مضارب اپنی صوابدید پر صارفین سے وصول شدہ رقم کی سرمایہ کاری و عدم سرمایہ کاری کسی بھی کاروبار ( کاروبار ، ٹرانزیکشن ،پروڈکٹ ) میں کرسکتا ہے جو بینک کے شریعہ ایڈوائزر سے منظور شدہ ہو ۔''
یہ درست ہے کہ سرمایہ کار مضارب کو یہ اختیار دے سکتا ہے کہ وہ جس کاروبار اور تجارت میں پیسہ لگانا