فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
اسلامی بینکوں میں کئے جانے والے اجارہ کے معاہدے میں گاڑی یا گھر کی ملکیت پہلے بینک حاصل کرتا ہے پھر اسے صارف کو کرایہ پر دیتا ہے ، کرایہ کی مدت کے اختتام پر ملکیت منتقل کرنے کی کئی صورتیں اسلامی بینکوں میں رائج ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ عام صورتیں یہ ہیں:
1 کرایہ کی مدت کے اختتام پر کرایہ کو ہی قیمت تصور کر کے چیز کی ملکیت صارف کو منتقل کرنا۔ یعنی کرایہ کا معاہدہ اور پھر بغیر کسی الگ معاہدہ کے ملکیت کی منتقلی۔
2 بینک اپنے صارف سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر اس نے مقررہ مدت تک کرایہ ادا کیا تو بینک اسے مذکورہ چیز ہدیہ کردے گا۔یعنی کرایہ کا معاہدہ اور اس معاہدہ میں ہدیہ کا وعدہ۔
3 بینک اپنے صارف سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر اس نے مقررہ مدت تک کرایہ ادا کیا تو بینک اسے مذکورہ چیز الگ معاہدہ کر کے نمائشی قیمت کے بدلہ بیچ دے گا۔یعنی کرایہ کا معاہدہ اور اس معاہدہ میں بیچنے کا وعدہ۔
اول الذکر صورت بالاتفاق حرام ہے اور اس پر مجمع فقہ اسلامی اور ہیئہ کبار علماء سعودی عرب کا فتوی بھی ہے، کیونکہ اس میں ایک ہی چیز پر بیک وقت دو معاہدوں کو ملا دیا گیا ہے، جس سے بہت سی شرعی مخالفتیں جنم لیتی ہیں، اور اب یہ صورت اسلامی بینکوں میں موجود نہیں ہے۔
مروجہ اجارہ کی صورت تصویر نمبر 2 میں ملاحظہ کریں
نقشہ