فهرس الكتاب

الصفحة 183 من 529

مشارکہ متناقصہ

مشارکہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے شراکت داری ۔ اصطلاحی طور پر فقہا ء نے مشارکہ کی مختلف تعریفات کی ہیں جو کہ تقریبا ہم معنی ہیں، ان تعریفات میں سے ایک یہ ہے کہ:'' الإجتماع في إستحقاق أو تصرف ''کسی چیز کے استحقاق (حق ملکیت ) یا اس کے تصرف میں (دو یا دو سے زائد افراد کا) جمع ہوجانا [1] ۔ یعنی دو یا دو سے زائد افراد مل کر کوئی چیز خریدیں یا اس کی ملکیت بغیر کسی معاہدہ کے دونوں کو مل جائے ، یا دو یا دو سے زائد افراد مل کر سرمایہ لگا کر کوئی کاروبار شروع کریں اور اس کے منافع میں حصہ دار بنیں۔

مشارکہ کے جواز کی دلیل

اللہ رب العزت کا فرمان ہے: {فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ } [النساء: 12] ''اگر (میت ) کی وراثت میں (میت کے بھائی بہن ) دو سے زائد ہوں تو وہ مال کے تیسرے حصہ میں شراکت دار ہیں''۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے: { ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَآءُ مُتَشَاكِسُوْنَ} [الزمر: 29] ''اللہ تعالی مثال بیان کرتا ہے ایسے شخص کی جس (کی ملکیت) میں کئی شراکت دار ہیں جو ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں''۔

اﷲ تعالی کا فرمان ہے:

{وَإِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَيَبْغِيْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [ص: 24]

ترجمہ:''اور بیشک بہت سے شراکت دار ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے''۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت