مذکورہ طریقہ کار کو تصویر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
نقشہ
اسلامی بینکوں میں رائج استصناع کے طریقہ کار اور صورتوں کا جائزہ لینے کے بعد جو بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ اسلامی بینکوں کی یہ پراڈکٹ بھی سقم اور شرعی قباحتوں سے خالی نہیں ہے ۔ جس کی نشاندہی ذیل میں کی جاتی ہے ۔
(1) بینک کا تیار کرائی جانے والی چیز کو قبضہ میں نہ لینا ۔
(2) صارف کو ہی وکیل مقرر کرنا ۔
اس طریقہ سے واضح ہوتا ہے کہ بینک محض ایک مالیاتی ثالثی کے فرائض انجام دیتا ہے حقیقی کاروبار میں حصہ نہیں ڈالتا جس سے بینک کا کردار رقم کے لین دین پر نفع حاصل کرنے تک محدود ہوجاتا ہے اس لیے یہ جائز نہیں ۔
شرعی رو سے اس معاہدہ کو صحیح کرنے کیلئے اسلامی بینکوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ مینوفیچرنگ معاہدوں