فهرس الكتاب

الصفحة 351 من 529

مشہور حنفی عالم دین ابن عابدین فرماتے ہیں:'' حدیث میں مذکورہ تینوں اجنا س کے علاوہ کسی چیز میں معاوضہ متعین کرکے مقابلہ کرانا جائز نہیں ''۔ [1]

مالکی مذھب کے معروف عالم دین فرماتے ہیں: ''مقابلوں کے حوالے سے ہم نے جو بھی احکامِ شرعیہ بیان کئے ہیں ، وہ گھوڑے اور سوار کے مابین یا ان دونوں کے درمیان ہیں اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:"لا سبق الا في خف ، أو نصل ، أو حافر"۔ [2] سے مراد ہیں ۔ اس کے ساتھ کسی اور مقابلے کو نتھی کرنا کسی طرح جائز نہیں الا کہ وہ مقابلہ بغیر معاوضہ وانعام کے ہو ، اگر ایسا ہے کہ وہ مقابلہ بغیر انعام کے ہے تو اس میں اگر دشمن پر غلبہ حاصل کرنا ، اور مسلمانوں کے نفع کے حوالے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تو یہ جائز ہے ۔ '' [3]

مذکورہ بالا حدیث کی تشریح میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: '' اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مقابلے صرف انہی چیزوں میں ہو سکتے ہیں جو حدیث میں مذکور ہیں '' ۔ [4]

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: '' انعام مقرر کرنا یا معاوضہ مقرر کرنا صرف گھوڑے ، اونٹ ، اور تیر اندازی میں جائز ہے '' ۔ [5]

پراڈکٹ کی ترویج کیلئےتحفہ دینا

پروموشن سکیموں میں ایک سکیم گفٹ دینے کی بھی ہے ۔ مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ پر صارفین کو کوئی نہ کوئی گفٹ دیتی ہیں ۔ دیے جانے والے اس گفٹ کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں ۔

یہ گفٹ کسی چیز کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ۔

[2] ابوداؤد: کتاب الجهاد ، باب في السبق ، الترمذي ، کتاب الجهاد ، باب ماجاء في الرهان والسبق . النسائي: کتاب الخيل ، باب السبق . ابن ماجه: کتاب الجهاد ، باب السبق و الرهان

[3] الذخيرة للقرافي: 3/466

[4] الأم للشافعي: 4/ 230

[5] عمدة الفقه لإبن قدامة 263

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت