فهرس الكتاب

الصفحة 282 من 529

طرزِ استدلا ل بالکل واضح اورصحیح ہے ۔ کیونکہ حدیث عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ اس باب میں اصل ہے اور اگر اشاریہ بندی پر اس کا انطباق کیا جائے تو نتیجہ ربا الفضل کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ۔ ربا الفضل اور اشاریہ بندی کے باہمی رشتے کے بارے میں محققین نے سیرِ حاصل بحثیں کی ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں ۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اصل مباحث کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اشاریہ بندی میں ربا الفضل سےمشابہت کا جو پہلو ہے اس کے پیشِ نظر اسلامی نظریاتی کونسل [1] اور وفاقی شرعی عدالت نے بھی قرضوں کی اشاریہ بندی کو خلافِ شرع قرار دیا ہے ۔ نیز یہ سلسلہ اب کسی حد تک اجماعی شکل اختیا کرتا چلا جارہا ہے۔اسلامی ترقیاتی بینک جدہ اور انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اسلام آباد کے زیر اہتمام اشاریہ بندی کے موضوع پر منعقد سیمینار ۱۹۸۷ ؁نے قرار دیا تھا کہ:

''ربا اور قرض کی احادیث میں مذکورہ یکسانیت اورمساوات سے وزن ،پیمائش اور مقدار کی مساوات مراد ہیں، مالیت کی برابری مراد نہیں ۔ یہ بات متعلقہ احادیث سے بھی ظاہر ہے جن میں اموالِ ربویہ کے لین دین میں ان کی قدر کو مدنظر رکھا جاتا۔ اس نکتہ پر امت کا اجماع ہے [2] اور اس پر اسی طرح عمل ہوتا چلا جارہا ہے۔'' [3]

چنانچہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ربا الفضل کے پہلو کی بنا پر اشاریہ بندی ناجائز ہے۔

[2] مجمع فقہ اسلامی جدہ کے جس اجتما ع کی قرارداد کی بنیاد پر اشاریہ بندی کے خلاف اجماع کی بات کی جارہی ہے ۔ اس اجتماع کے بارے میں اس حد تک تو بات درست ہے کہ اس اجتماع میں اشاریہ بندی کے حل کو مسترد کردیا گیا تھا تاہم اس اجتماع کی قرارداد صرف اکثریتی تھی اتفاقی نہیں تھی کیونکہ اسی اجتماع کے شرکاء میں سے ہی ڈاکٹر سلیمان الاشقر ، ڈاکٹر عجیل نشمی وغیرہ اس قرارداد کے حق میں نہ تھے ، لہذا قرارداد کو اکثریتی کہنا ہی زیادہ مناسب ہے، اجماع کا دعویٰ کرنا درست نہیں ۔ ملاحظہ ہو مجلہ الفقه الاسلامی…… (محدث)

[3] مجموعہ سفارشات سیمیناربابت اشاریہ بندی، اور اسلامی معیشت پر اس کے اثرات، اپریل 1987ء۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت