فهرس الكتاب

الصفحة 521 من 529

معیشت کو شرعی خطوط پر استوار کرنے کیلئے،''المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی''کی جانب سے ایک منفرد سیمناربعنوان ''اسلامی بینکاری شرعی میزان میں '' منعقد کیا گیا جس میں ملک کے مایہ ناز علماء و ماہرینِ معیشت نے بھی خطاب کیااورمتعلقہ موضوعات پر اپنے اپنے علمی مقالہ جات پیش کئے ۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں علماء و مفتیان کرام ،اسلامی بینکاری سے متعلقہ شخصیات، سرمایہ داروں ،اعلی تعلیمی اداروں کے پروفیسرزاورطلباءنے شرکت کی۔

سیمینار کے آخر میں المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی کی جانب سے مروّجہ اسلامی بینکاری کے نظام میں اصلاحات اور صحیح اسلامی بینکاری کے قیام کے لیے علماء ِ کرام کی بیان کردہ تجاویز کی روشنی میں اہم سفارشات پیش کی گئیں جو درج ذیل اقسام پر مبنی ہیں:

(1) تمہید

(2) مروجہ اسلامی بینکنگ میں موجود شرعی قباحتیں

(3) صحیح اسلامی بینکاری کے لئے بنیادی تجاویز

(4) دیگر سفارشات

تمہید

سودی نظام پر مبنی بینکاری یقینًا کسی بھی معاشرے اور اس کی اقتصاد و تجارت کے لئے زہر ہلاہل جبکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلا اعلان جنگ ہے ، جو کسی بھی معاشرہ خصوصًا مسلم معاشرہ کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ۔ ایک مسلمان چاہے عالم ہو یا تاجر یا کوئی اور حیثیت رکھتا ہو ، اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کے تمام پہلؤوں پر عمومًا اور اپنی آمدن و تجارت پر خصوصًا اسلامی اصول ومبادی کی عملی تطبیق کے لئے سرگرداں رہے۔سودی بینکاری کے بالمقابل اسلامی بینکاری کا رواج و تنفیذ بھی یقینًا اسی سوچ کی عکاس ہے اور انتہائی لائقِ تحسین ہے ۔ سودی بینکاری کی انتہائی پختہ و مضبوط عمارت او رمروجہ نظام سے ہٹ کر خالصتًا اسلامی بنیادوں پر قائم بینکاری نظام کا قیام یقینًا انتہائی دشوار گزار مرحلہ رہا ہوگاجس کے لئے جدوجہد کرنے والے تمام علماء و کاروباری حضرات لائقِ تعریف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت