فهرس الكتاب

الصفحة 112 من 573

انسانی مجبوریوں کا لحاظ

اسلام نے حرام کے معاملہ میں سخت احکامات دئیے ہیں لیکن اس نے انسانی زندگی کی ضرورتوں کی طرف سے بے اعتنائی برتی اور انسانی کمزوری کا بھی پورا لحاظ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اُس نے اس بات کو جائز کردیاہے کہ ایک مسلمان شدید ضرورت کے پیش نظر اپنی جان بچانے کے لیے بقدر ضرورت حرام چیز کھالے۔اللہ جل جلالہ نے مردار،خون اورسور کے گوشت کی حرمت کا حکم دینے کے بعد فرمایا ہے:

{فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ} [1]

"تو جو شخص مجبور ہوجائے اور وہ اس کا خواہشمند اور حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہوتو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ جل جلالہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔"

یہ حکم دیگر چار سورتوں میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ایک ہی ہے۔

لیکن خیال رہے کہ ان آیات نے مضطر کے لیے غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ کی قید لگائی ہے جس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ حالت مجبوری میں حرام سے فائدہ اٹھانے والا حرام شئے کی لذت کاطالب نہ ہو اور نہ ہی فائدہ اٹھانے کے معاملہ میں حدِضرورت سے تجاوز کرنےوالا ہو اس شرط سے علماء نے ایک اصول اخذ کیاہے اور وہ یہ ہے کہ ضرورت اپنادائرہ خود متعین کرتی ہے۔

انسان کو اگرچہ کسی مجبوری کے آگے جھکنا پڑتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح مجبوری کے حوالے کردے اور اپنے نفس کی زِمام

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت