فهرس الكتاب

الصفحة 412 من 573

مضاربت کے جواز کی حکمت

معاملہ مضاربت کو مشروع قراردینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بعض لوگ مالدار اور غنی تو ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ مال کے ساتھ کاروبار کرنے کے اہل نہیں ہوتے یعنی کاروباری معاملات میں نابلد ہوتے ہیں،اس کے مقابلے میں بعض لوگ کاروبار میں اعلی مہارت تو رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ نہیں ہوتا، اس بناء پر مضاربت کے جواز کی ضرورت پیش آئی تاکہ لوگ ان حالات میں نقصان اور گھاٹے میں مبتلا نہ ہو جائیں اور ناتجربہ کار مالدار اور تجربہ کار عقل مند تنگ دست کی فلاح و بہبود ایک بہتر طریقہ سے بر قرار رہ سکے۔

جمہور کے نزدیک مضاربت کے تین اہم ارکان اور وہ درج ذیل ہیں:

1۔عاقدین (مالک و عامل) یعنی جن دو فریقین کے مابین عقد مضاربت قائم ہوا۔

2۔معقود علیہ (سرمایہ، کام ، نفع) جن بنیادوں پر عقد قائم کیا گیا۔

3۔صیغہ (ایجاب و قبول) فریقین کے مابین طے پاجانے والا ایگریمنٹ۔

فریقین کی نیک نیتی برکت کا باعث بنتی ہے

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ: (( إِنَّ اللّٰهَ يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ) ) [1]

(وَزَادَرَ زِيْنُ: «وَجَاء الشَّيْطَانُ) [2]

[2] ۔مشکوٰۃ کتاب البیوع باب الشرکة والوكالة (2933) ص254 الفصل الثاني: رزین کی زیادتی کی اسنادی حیثیت مجھے معلوم نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت