فهرس الكتاب

الصفحة 97 من 573

پہلی سزا یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ اس کو بیکار کاموں میں الجھا دے گا اوردوسری سزا یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس کی محتاجی کو ختم نہ کرےگا اور وہ ہمیشہ لوگوں کا دست نگر اور محتاج رہے گا۔

کشادگی رزق کا فارمولا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنْ أَحبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ في رِزقِهِ، ويُنْسأَ لَهُ في أَثرِهِ، فَلْيصِلْ رحِمهُ ) ) [1]

"جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی کی جائے یا اس کےاثرات دیر تک رہیں وہ صلہ رحمی کرے"

صلہ رحمی کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے عزیز واقارب کا خیال رکھے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔

رِزق اور عمُر میں اضافے کا فارمولا

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:

عن أبى هريرة - رضي اللّٰه عنه - قال: سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يَقُولُ: (( مَنْ سَرَّه أَنْ يُبْسَط لَهُ فِي رِزْقِهِ وَأَنْ يُنْسَأ لَهُ فِي أثَرِه فَلْيَصِلْ رحِمهُ ) ) [2]

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا!جو شخص اپنے رزق میں کشادگی اور عمر میں

[2] ۔صحيح البخاري باب من بسط له في الرزق بصلة الرحم: ومسلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت