فهرس الكتاب

الصفحة 236 من 573

کتے، بلّی اور خون کی تجارت حرام ہے

مختلف نسلوں، شکلوں اور مختلف رنگوں کے اعتبار سے دنیا میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اقسام کے کتے اور بلے پائے جاتے ہیں، مختلف ممالک میں بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ان کی مانگ بہت زیادہ ہے اسی طرح خون کی تجارت جیسے بلڈ بینک وغیرہ کرتے ہیں یا ہسپتالوں کے باہر چند نشائی نظر آتے ہیں جو اپنے نشہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا بلڈ فروخت کرتے ہیں جو کہ شرعًا ممنوع اور حرام ہے۔

1۔حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

(نَهَي رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ) [1]

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔"

2۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

(اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ) [2]

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ "

3۔۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

(نَهَي رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا کَلْبِ الصَّیْدِ) [3]

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے علاوہ کسی بھی کتے کی قیمت سے منع فرمایاہے۔" (امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سند کو مجروح قراردیا ہے)

[2] ۔سنن ابوداؤد كتاب الاجارة باب في ثمن السنور:سنن الترمذي ،البيوع،باب ماجاء في كراهية ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ،والنسائي وغيرهم

[3] ۔سنن الترمذي البيوع باب النهي عن ثَمَنِ الْكَلْبِ (1328)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت